زندگی
Poet: حیا ایشم By: حیا ایشم Haya Aisham, Lahoreآنکھ کھل جاۓ تو ۔۔ خواب ٹوٹ جاتے ہیں!
خواب ٹوٹ جانے سے زندگی نہیں رکتی
زندگی تو چلتی ہے ۔۔ زندگی نے چلنا ہے
بے کسی درماندگی، بے وجہ سی وحشت بھی
چاہے لاکھ حاوی ہو
چاہے دل کی ہر دھڑکن
روح کی طنابوں تک ہر گھڑی میں کھینچتی ہو
پر ۔۔ زندگی تو چلتی ہے ۔۔ زندگی نے چلنا ہے
یہ کس نے کہہ دیا تم سے
کہ زندگی میں خواہش ہی زندگی کا حاصل ہے
کائناتِ ربی کو غور سے کبھی سوچا ہے؟
کہاں شام صبح نہیں ہوتی
کہاں خزاں بہار نہیں ملتی
کہاں بے کسی نہیں ملتی
کہاں مرگ، حیات نہیں ہوتی
زمین جب مر جاۓ تبھی تو بارش ہوتی ہے
زمان و مکاں نکھرتے ہیں
کلی بھی تبھی کھلتی ہے
بے کسی، شکستگی رضا کے سب لمحوں میں
زندگی جینا ہی زندگی کو جینا ہے
یہ کس نے کہہ دیا تم سے کہ زندگی نہیں چلتی
زندگی کے سب لمحے زندگی میں لازم ہیں
زندگی کی صبحوں کی شامیں بھی تو ہوتی ہیں
امتحان کی تپش میں ہو یا وقت کی تمازت میں ۔۔
تلخیء زمانہ میں یا شیریں کسی حلاوت میں
وقت کے سبھی لمحے زندگی میں لازم ہیں
اک ادا کے دامن سے اس رضا کے دامن تک
اشک جب بکھر جائیں ۔۔ جب لگے کہ دل مر جاۓ
ہاں شاید ایسا لگتا ہے ۔۔ پر دل مگر نہیں مرتا
دل کا رب خدا گر ہو ۔۔ کوئ بت ۔۔ نہ ۔۔ امتحان گر ہو
پھر دل یہ خود سنبھلتا ہے ۔۔
کوئ بہت قریب آ کر ۔۔ اشک یہ سب چنتا ہے
جس نے دل بنایا تھا ۔۔ محبتوں سے سجایا تھا
وہی اس دل کا نگہبان ہو گا
جب باقی ہے فقط اللہ
تو کیوں دلِ شکستہ پھر رہے 'باقی'؟
بقا کے سب لمحوں میں فنا سے تو گزرنا ہے
فنا کے آڑے آنا ہی انا کا گورکھ دھندہ ہے
تو کوئ غم یا غصہ کیوں رہے زندہ
کوئ شکوہ کوئ شکایت کیوں
کوئ حزن ملال کیوں رہے باقی
جب باقی فقط اللہ ہے
تو کیسے شکستگی ریے باقی
خواب ٹوٹ جانا بھی امر باذن اللہ ہے
زندگی کا پھر بھی چلنا امر باذن اللہ ہے
کہ کئی خواب ریزہ ہوتے ہیں تب تعبیر نئی ایک بنتی ہے
ان خوابوں کے عوض میں ہی اس دل نے پھر نکھرنا ہے
جو مکینِ دل ازل سے ہے بس اسی نے اس میں آ کر بسنا ہے
تو خواب ٹوٹ جانے پر کوئ ملال کیوں رہے باقی
زندگی کو جینے میں کٹھنائ کیوں رہے باقی
زندگی کے ہر لمحے کو رضاۓ رب سے بس سجانا ہے
الحمدللہ کہنا ہے اور مسکرا سر دل و جاں کو بس جھکانا ہے!
پھر رب گلے تمہیں لگاۓ گا ۔۔ تمہیں دیکھ مسکراۓ گا۔۔!
جو رب کی رضا میں بس جیئے وہی رب کو پیارا بندہ ہے!
تو بس یہی تو ہم کو چننا ہے
کہ ہمیں شکستہ خواہش کا بندی ہونا ہے
یا اپنے رب کا بندہ بننا ہے۔۔!
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






