زندگی اک درد و غم کا ساز ہے
Poet: اطہر By: اطہر, Sialkotزندگی اک درد و غم کا ساز ہے
موت جس کی آخری آواز ہے
واں تو آئینہ ہے مشق ناز ہے
منتشر یاں زندگی کا ساز ہے
دل ہمارا درد سے خالی نہ کر
یہ ہماری زندگی کا راز ہے
آج پھر برسیں گے نغمے بزم میں
آج پھر ہاتھوں پہ اس کے ساز ہے
ہر نشانہ دل پہ لگتا ہے مرے
کون کہنہ مشق تیر انداز ہے
سن رہا ہوں دل سے نغموں کی صدا
دوست سے ملتی ہوئی آواز ہے
نغمہ باز اک زندگی کا ساز ہے
دہر کا ہر ذرہ ہم آواز ہے
جل رہا ہے جسم کا خاکی قفس
طائر جاں مائل پرواز ہے
ختم کر عالیؔ فسانہ ختم کر
سننے والا محو خواب ناز ہے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






