زندگی میں کبھی کبھی
Poet: UA By: UA, Lahoreزندگی میں کبھی کبھی ایسا لمحہ آتا ہے
کسی کو یاد کرتے ہوئے اپنا آپ بھول جاتا ہے
کسی سے کچھ بھی کہا نہیں جاتا
اور بنا کہے بھی رہا نہیں جاتا
نہ کچھ سنائی دیتا ہے نہ کچھ دکھائی دیتا ہے
دل نہ ہی کچھ سن پاتا ہے اور نہ ہی کچھ کہہ پاتا ہے
ہر بات میں ضد پکڑتا ہے اور اپنی بات منواتا ہے
کوئی ساتھی سنگی ساتھ نہ ہو دل خود سے باتیں کرتا ہے
کانٹوں کے رستوں پہ چل کر خوشیوں کے پھول کھلاتا ہے
خوابوں میں گم صم رہتا ہے سچائی سے کتراتا ہے
کوئی لاکھ چھپائے راز دروں آنکھوں سے عیاں ہو جاتا ہے
کوئی چاہے یا نہ چاہے دنیا کو پتہ چل جاتا ہے
یہ دل بھی کتنا پاگل ہے کسی کو رسوا کرتا ہے
بدنامی کو گلے لگاتا ہے اوررسوا ہو جائے تو گھبراتا ہے
جو بات ہمارے بس میں نہیں پھر دل کیوں اس پر آتا ہے
نظروں کو جس کی چاہت ہو نظروں سے وہ چھپ جاتا ہے
پھر دل سے دل کا مل جانا کیوں مشکل تر ہو جاتا ہے
دل ناداں ہے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں سمجھ نہیں پاتا ہے
ان سچے جھوٹے خوابوں سے اپنا جیون بہلاتا ہے
یہ دل آخر کیوں سچے جھوٹے خواب سجاتا ہے
لیکن یہ سچ ہے جیون میں یہ لمحہ آتا جاتا ہے
ہر زندگی میں کبھی کبھی
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ








