زندگی کے موسم
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreزندگی کے موسم ہوں یا دُنیا کے بدلتے موسم
کبھی بدلتے موسموں سے گھبرا یا نہیں کرتے
دھند ہو یا سفاف چمکتی دھوپ
سردی ہو یا خزاں ، بہار ، گرمی برسات
با دلوں میں چھپا آسمان ہو
یا ہو سنہا سورج بادشاہ کی آسمان پر حکومت
نیل گگن سے بارش برسے یا
برف اُولے پڑے یا آندھی ملے
دُنیا کے موسم کی شدت ہو ۔یا۔ زندگی کے موسموں کی نرمی گرمی
جس موسم سے بھی ہو سامنا
اس کے آگے کبھی ہار نہ مانا
بدلتے موسم ہوں یا رشتوں کے بدلتے رنگ
ہنستے ،مسکراتے ہوئے گزر جانا ہر موسم سے تم
ان کی شدت کو مزے سے کروبرداشت تُم
پروانہ کرو، دُنیا کی جلتی باتیں ہوں یا
ہو جلتی زمین اور آگ برستا ہو آسماں
یا ہوں چلتی گرم ہوائیں
سب محسوس کرنے کی بات ہے
محسوس کرو گے تو یہ،لُو ، بھی برفانی ہواؤں سی لگنے لگے گی
روح تک کو تڑپادینے والی دُنیا کی سخت باتیں
دل پر اگر نہ لگاؤ ایک کان سے سنو ، دوسرے سے اُڑاؤ
تو زندگی بڑی خوشگوار اور پر سکون گزرے گی
بلاوجہ ہم اپنا ہی نقصان کرتے ہیں
خود ہی خسارے میں رہتے ہیں
کبھی موسم کی شدت سے پریشان ہوکر خود کو بے حال کرتے ہیں
کبھی اپنوں کی باتیں دل پر لگاکر دُنیا ہی سے چل بستے ہیں
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






