ساقي نامه
Poet: شمیم عرفانی By: Shameem Irfani, Afif, Saudi Arabiah عجب طرزِ جنوں سے دل ہوا ہے آشنا ساقی
نیا جادہ ، نئی منزل ، نیا ہے رہنما ساقی
کوئی جدت نہیں تجھ میں بہ انداز ِ جدا ساقی
وہی غمزہ ، وہی عشوہ ، وہی ناز و اَدا ساقی
در ِ میخانہ سے گزرا ، عجب تاثیر و بو پائی
نظر آئی مجھےاس میں ، تری اِک اِک ادا ساقی
نظام ِ میکدہ تیرا، تجھے ،ہمدَم ! مبارک ہو
مگراتنا بتامجھ کو کہ چَھن سے کیا گِرا ساقی
جہاں سے نفرتوں کی ظلمتیں کافور ہوجائیں
کوئی قندیل الفت کی ذرا ایسی جَلا ساقی
تذبذب یا تجامل کا مری جاں ! میں نہیں قائل
جو کہنا ہے ، کہو ،حق ہے ، مگر ہاں برمَلا ساقی
مجھےسرشارجوکردےمرےرب کی محبت سے
وہی اک بادہء توحید لا مجھ کو پلا ساقی
وہ میرے لوح ِ دلِ پر کیوں سدا تیشے چلاتا ہے
مجھےآزار دیتا ہے ، سبب کچھ تو بتا ساقی
خدائے پاک کی نظر ِ عنایت ہے توکیا غم ہے
زمانے سے کہو کیوں آپ اپنا مدعا ساقی
یہ لوگوں کا عمل ہے جو اسے مطعون کرتا ہے
زمانہ خود نہیں ہوتا کبھی اچھا برا ساقی یہ مانا
زندگی کے پیچ و خَم سلجھا نہیں سکتے
بڑے پر سوز ہیں لیکن ،مرے حرف و نوا ساقی
مری سادہ طبیعت نے عجب یہ رنگ پایا ہے
کروں نہ تنگیء حالات پر آہ و بکا ساقی
بَلا نوشوں سے یہ کہدو ہمہ تن گوش ہوجائیں
ہوا ہے پھرکوئی آشفتہ سَر، نغمہ سَرا ساقی
سدا ہر کوچہء الفت میں یوں دَر دَربھٹکنا کیا
چلے آؤ درِ رب پر ، کہ یہ دَر ہے کھلا ساقی
شمیم! اس شوخ کو یہ راز ِ حق کوئی توسمجھائے
کہ کشتی ڈوب جاتی ہے ، نہ ہو گر ناخدا ساقی
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






