ساون کی برساتوں میں پیڑ ہجر کے سوکھے تھے
کیسے تیز ہوائی تھیں کیسے بادل برسے تھے
کیسا اچھا دن تھا وہ جانے کس کی میت تھی
میں نے شہر کے سارے لوگ اک مرکز پہ دیکھے تھے
میرے شہر میں بسنے والی ساری خلقت پیاسی تھے
میرے شہر سے تھوڑی دور گرچہ دریا بہتے تھے
ہوش میں آتے آتے ہم کو سارا جیون بیت گیا
لفظ تھے جدائی کے خط میں اس نے لکھے تھے
سدید ہم نے دیکھی ہے جس کو دنیا کہتے ہیں
گداگروں کی بستی تھی سب کے ہاتھ میں کاسے تھے