سب سے منفرد
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwalaتم کو اپنا ہم سلام لکھتے ہیں
تمہی سے کرنا کلام لکھتے ہیں
تم کو لکھتے ہیں بادشاہ اپنا
خود کو تمہارا غلام لکھتے ہیں
آنکھیں تمہاری شراب لکھتے ہیں
خود کو تمہارا شباب لکھتے ہیں
تم کو لکھ کر ہم ثواب سارے
خود کو سارے عذاب لکھتے ہیں
دیکھ کر تمہیں چھلکے جو جام
پیمانہ تم سے جلا، بخدا لکھتے ہیں
سب غموں کو طلاق دے کر
تم کو سب سے رہا لکھتے ہیں
تمہاری تعریف ہے عادت ہماری
تم کو اپنی ہی اک ادا لکھتے ہیں
خود کو لکھ کر آگ ہی آگ ہم
تم کو جنت کی ٹھنڈی ہوا لکھتے ہیں
خود کو لکھتے ہیں بدنام بزم ہم
تم کو ہی سراپا حیا لکھتے ہیں
ذندگی بھر چھانتے رہے خاک جو ہم
تم کو ان سب کی جزا لکھتے ہیں
چلو عمراؔن! سب سے منفرد لکھیں
اک بے وفا کو آج ہم با وفا لکھتے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






