ایک دفعہ پھر یہ 8 مارچ آیا ہے
Poet: سانیہ By: سانیہ, Peshawarایک دفعہ پھر یہ 8 مارچ آیا ہے
شرم و حیا کا پیکر ساتھ لایا ہے
بیچ پنڈل میں لٹکا کر جلایا ہے
رکس کی تھاپ سے جشن پھر منایا ہے
کسی کی عزت کو لوٹا کسی کو جان سے مارا ہوا ہے
مگر یہ کون منکر ہمارے جنازوں میں آیا ہے
ہم تومر کے بھی سفید کفن کو خود سے لپٹے رکھے
ہم تو آخری سانس تک اللہ اکبر کہتے مٹ گۓ
پھر وہ کون ہے جو ہمارا محرم چھیننے آیا
ہمیں سربازار برہنہ کرنے آیا
وہ کہتے ہیں ہمارا دیس ہے نرالا
وہاں کی ہر اک مادہ نے ہے اپنا مقام پایا
وہاں عیش تو ہے آرام بھی ہے سہولت عام بھی
وہاں بہن کا نہ بھائی ہے نہ بیٹا کوئی
وہاں کسی کا نر کسی دوسرے کے گھر ہے آج
طبیت جو بدلےتو شکل،صورت گھر بھی بدلے
میں چھلنی ہوں میرے زخم ہرے ہیں آج
میں نے پھر بھی اسے چادر میں چھپا رکھا ہے
نہیں ہوتا انصاف اگر انسان کی عدالت میں
میرا مقدمہ چلتا ہے ہر رات بارگاہ عدالت میں
وہ آرام کی غرض سے لیٹتا ضرور ہوگا
گناہوں کے ترازو میں جھولتا ضرور ہوگا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






