ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہے

Poet: اسامہ By: اسامہ, Multan

ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہے
وفا شعار نہیں وہ وفا شناس تو ہے

وہ دل کی بات زباں سے نہ کچھ کہیں شاید
ہمارے حال پہ چہرہ مگر اداس تو ہے

یہ دل فریب بنارس کی صبح کا منظر
اودھ کی شام دل آرا ہمارے پاس تو ہے

بھرم رہے گا ترے مے کدے کا بھی ساقی
بلا سے خالی سہی ہاتھ میں گلاس تو ہے

چلے ہی جائیں نگاہوں سے دور آپ مگر
حسین یادوں کی دولت ہمارے پاس تو ہے

کرے بھلے ہی نہ رحمت کی مجھ پہ تو بارش
ترے کرم کی مرے دل میں ایک آس تو ہے

یہ سچ ہے اس نے بجھائی نہ تشنگی لیکن
ہماری تشنہ دہانی کا اس کو پاس تو ہے

درست ہے کہ فرشتہ صفت نہیں دانشؔ
خدا گواہ بصیرت کی اس کو پیاس تو ہے
 

Rate it:
Views: 178
09 Sep, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL