سمجھ نہیں آتی

Poet: Ayesha Arshad Khokhar By: Ayesha Arshad Khokhar, Satrah Sialkot

ملتی ہے کیوں مجھ کو سزا سمجھ نہیں آتی
ہوئ کیا مجھ سے خطا سمجھ نہیں آتی

وہ خوشیاں جو بہت مانوس تھیں مجھ سے
رہتیں ہیں کیوں خفا سمجھ نہیں آتی

کبھی جو اپنے مجھے اپنے لگا کرتے تھے
ان کے بد لے رویوں کی وجہ سمجھ نہیں آتی

تپتی دھوپ اور کبھی ٹھنڈی ہوایں
ہم کو موسم کی یہ ادا سمجھ نہیں آتی

یوں تو ہر شام گھر لوٹ جاتے ہیں پرندے
مگر کچھ بھٹکوں کو کوئ راہ سمجھ نہیں آتی

وقت ہر زخم کو بھر رہا ہے لیکن
درد کی یہ انتہا سمجھ نہیں آتی

گناہ گار ہیں اتنے کہ سر نہیں اٹھتا
پر اس کی یہ عطا سمجھ نہیں آتی

Rate it:
Views: 1346
23 May, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL