سمندر
Poet: ندیم مراد By: ندیم مراد, umtata RSAہے جس جس کو سمندر سے محبت سوچتا ہے
سمندر ناچتا ہے
ہے یہ چھنکار پازیبوں کی شائیں شائیں لہروں کی
مسلسل رات دن شام و سحر یہ ناچتا ہے اور نہیں تھکتا
کبھی ناچے نہا کر چاند کی نورانی کرنوں میں
کبھی ہنستے ہوئے انساں کی سادہ لوح طبیعت پہ
جہازوں پر ستم ڈھاکر
دُخانی کشتیوں سے کھیلتے اٹکھیلیاں کرتے
مسلسل ناچتا ہے یہ
کہ تنہائی کا مارا ہے
نہ رکھے ناچ میں مصروف جو خود کو
کہاں لے جائے اپنی وُسعت و عظمت
سو بے خود ناچتا جائے
خرامِ ناز ہی میں دیوہیکل لوہے کے بھاری جہازوں کو
اُچھالے جیسے خار و خس
کہ جب یہ وجد میں ناچے
اسے طوفان مت جانو
ہے جس جس کو سمندر سے محبت سوچتا ہے
سمندر رو رہا ہے
ہے اس کی ہچکیوں کا شور شائیں شائیں لہروں کی
اسے غم ہے کہ یہ انساں بھٹکتا پھر رہا ہے
اور ابھی منزل سے کوسوں دور ہے
یا پھر اسے غم ہے
کہ انساں نے نشاں بھی کھو دئے گم گشتہ منزل کے
نہیں ایسا نہیں در اصل غم یہ ہے
دریدہ راستوں پہ پا برہنہ خندہ پیشانی
سوئے منزل مسلسل گامزن جس حوصلے سے تھا
اسے دکھ ہے کہ یہ انسان اپنی اگلی نسلوں تک
ابھی اس حوصلے کو منتقل کرنے سے قاصر ہے
ہے جس جس کو سمندر سے محبت سوچتا ہے
سمندر سو رہا ہے
تنفس کی ہے یہ خر خر ، یہ شائیں شائیں لہروں کی
خُمار اس کو ہے یہ کیسا
یہ کس غفلت میں سویا ہے
اسے معلوم ہے انساں نے کتنی اوج پائی ہے
وہ جا پہنچا ہے کس اونچائی پر کتنی ترقی پر
اسے معلوم ہے دنیا میں کتنے انقلاب آئے
اور اس میں کتنے ہی دہکان اور مزدور کام آئے
مگر ظلم و ستم تو آج بھی کمزور سہتے ہیں
یہاں پر آج بھی انسانی اعضاء سستے بکتے ہیں
وہ دن گزرے کہ جب جُرات کی ماری گردنیں ہی
منصبِ شمشیر زدگی پہ ٹھہرتی تھیں
سمندر کو ہے یہ معلوم کی اب آتش و بارود کے ہاتھوں
فقط کچھ سر نہیں پر پوری بستی نیست کر دینا تماشا ہے
اسے معلوم ہے کہ اب بھی لاشیں اپنی قبروں کو ترستی ہیں
ہے جس جس کو سمندر سے محبت سوچتا ہے
سمندر گا رہا ہے
ہے گانے کی الاپ اور تان شائیں شائیں لہروں کی
مگر کیا گا رہا ہے؟ گیت یا نوحہ
یہ طے کرنا تو مشکل ہے
سُروں کا زیرو بم لیکن
عجب تاثیر رکھتا ہے
ہو دل میں درد تو لگتا ہے یہ غمگین سا نغمہ
خوشی ہو اور ساحل گھومنے جاؤ
تو اس کی لَے میں ہے جھنکار و مستی بھی
اُچھلتی کودتی بل کھاتی لہریں ناچتی محسوس ہوتی ہیں
زمانے کے چلن سے دل ہو آزردہ
تو لگتا ہے سمندر رو رہا ہے
اگر موہوم سی امید بھی باقی نہ ہو دل میں
تو لگتا ہے سمندر سو رہا ہے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






