سنا ہو گا بہت تم نے
کہیں آنکھوں کی رم جھم کا
کہیں پلکوں کی شبنم کا
پڑھا ہوگا بہت تم نے
کہیں لہجے کی بارش کا
کہیں ساگر کے آنسو کا
مگر تم نے کبھی ہم دم
کہیں دیکھے کہیں پڑھے
کسی تحریر کے آنسو
مجھے تو اس جدائی نے
یہی معراج بخشی ہے
کہ میں جو لفظ لکھتا ہوں
وہ سارے لفظ روتے ہیں
کہ میں جو حرف بنتا ہوں
وہ سارے باتیں کرتے ہیں
میرے سنگ اس جدائی میں
میرے الفاظ مرتے ہیں