سنبھالے جائیں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaبے ضمیرے نہ کسی طور بھی پالے جائیں
تھام کر ہاتھ یہ اب گھر سے نکالے جائیں
قرض ہم نے جو دیا، کوئی بڑا جرم کیا؟
روز ہی اور کسی روز پہ ٹالے جائیں
اشک تُو نے جو دیئے قیمتی سرمایہ ہیں
تیرے بخشے ہوئے موتی نہ سنبھالے جائیں
ہاں میں جو ہاں کے ہیں قائل وہی محفل میں رہیں
جو مری ضد میں اٹھا لائے حوالے، جائیں
سخت مشکل میں ہیں، اے اہلِ وطن کیا ہوگا؟
روز حالات نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں
دل (کہ آسیب زدہ ایک حویلی ہے) مرا
اس کی پہچان (یہی ہوتے ہیں جالے)، جائیں؟
صاحبِ شہر تو آزاد ہر افتاد سے ہے
اور مشکل میں ہمی لوگ ہی ڈالے جائیں
کس ڈھٹائی سے یہ اعلان ہؤا ہے سرِ بزم
گورے رہ جائیں یہاں جتنے ہیں کالے، جائیں
میں جو چپ ہوں تو ہوں انجان ضروری تو نہیں
آپ کے روپ میں ہیں کتنے اجالے؟ جائیں
یاد زندہ ہے تجھے کیسے نکالوں دل سے
ڈوبیں دریا میں تو مُردے ہی اچھالے جائیں
دل میں حسرتؔ ہے مجھے آخری بار آ کے ملو
کیا ملے مجھ کو سکوں، ہونٹوں سے نالے جائیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






