سنو جاناں۔

Poet: چوھدری پرویز افضل By: Ch Pervaiz Afzal, Jhelum/Dubai

سنو جاناں
وہ سرد لمبی راتیں بھی گئیں
برسات کی وہ حسیں ملاقتیں بھی گئیں
اب تو بس ہجر کے قصے ہیں
خوشیاں تیرے اور غم میرے حصے میں ہیں
بس اتنا ہی نہیں تھوڑا سا اور سنو جاناں
سیفل جیل پر بلبل اب بھی گنگنتی ہے
چڑیا اب بھی اپنا بین بجاتی ہے
ہر طرف پور نور رونیکی میلے ہیں
بس تیرے جانے کے بعد ہم اج بھی اکیلے ہیں۔
سنو جاناں ۔۔۔۔یہ جداۂی کے لمہے کیسے کٹتے ہیں
وہی انداز پرانا ہے وہی روایت پرانی ہے
تمہاری یاد میں ہر روز شمع جلانی ہے۔
سنو جاناں ۔۔۔کوئی مانے یا نہ مانے یہی پریم کہانی ہے ۔۔،،۔۔یہی پریم کہانی

Rate it:
Views: 872
15 Sep, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL