سنو جب وہ لوٹے تو اس کو کہنا
Poet: شفق کاظمی By: Shafaq kazmi, Karachiسنو وہ جب لوٹ کر آئے تو اس کو کہنا
شفق بہت انتظار کرتی تھی تمہارا
تم سے ملنے کو تم سے بات کرنے کو
بہت ترستی تھی وہ
سنو اسے کہنا تم بن ہر لمحہ اس کہ لئے وحشت زدہ تھا
اسے آس تھی اسے امید تھی
تم لوٹ کر آؤ گے ایک دن
ضرور آؤ گے۔
وہ اس آس پر اس امید پر دن رات نہیں سوتی تھی
کہیں تم آکر چلے نہ جاؤ
سنو جب وہ لوٹے تو اس سے پوچھنا
وہ لڑکی تو تمہارے درد،دکھ کی ساتھی تھی نا
پھر کیوں بغیر بتائے اسے چھوڑ گئے تھے؟
سنو اس سے پوچھنا
دل کو تو دل سے راہ ہوتی ہے نا
وہ تمہیں دل سے یاد کرتی تھی۔تمہارے لئے روتی تھی۔
کیا کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی تمہیں اس کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔۔؟
سنو اس سے پوچھنا
شفق کی زرا سی تکلیف پہ تم تو رو دیتے تھے نا۔؟
پھر کیوں اس کی مسکراہٹیں اس سے چھین کر
تم بہت دور چلے گئے تھے۔
سنو اس سے پوچھنا
کیا ایک لمحہ کے لئے بھی تمہیں اس کی یاد نہیں آئی تھی
سنو جب وہ لوٹے نا
تو اس سے کہنا
تمہاری فیری،تمہاری شریفہ اب نہیں رہی
سنو جب وہ لوٹے تو اس سے کہنا
وہ تمہیں بہت یاد کرتی
تمہارے لئے بہت روتی تھی وہ
سنو جب وہ لوٹے تو اس کو کہنا
تم سے ملنے کو تم سے بات کرنے کو
بہت ترستی تھی وہ
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔







