سنو کچھ پوچھ سکتا ہوں
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadسنو کچھ پوچھ سکتا ہوں
زرا سا وقت دو مجھ کو
کچھ انکہی باتیں
کچھ انکہے جزبے
مجھ دن بھر ستاتے ہیں
راتوں کو جگاتےہیں
میرے جی کو جلاتے ہیں
اور یہ کشمکش بھی ہے
کہ کون ہوں میں
کس رستے کا راہی ہوں
میری منزل کہاں گم ہے
سبھی رستے دھول سے بھرے ہوے
چاند کی جستجو میں زمیں بی چھوڑدی
خلاوں میں لٹک گیا
محبت اور عشق کے فرق کو
نہ جان پایا نا سمجھ پایا
محبت نے مار ڈالا
عشق نے فنا کردیا
سنو اظہار کیا میں نے
سنو اظہار سنا میں نے
مجرم بھی میں ہی ٹھہرا
ہر چہرہ محو ِ سوال مجھ سے ہی
ہر دہلیزمیری بساط سے باہر
دل ایسا کہ شکستہ سا
من ایسا کے پرایا سا
تن بھی بے معنی سا
سنو سب حق چھین لو مجھ سے
سب خواہیشیں لے لو
سب لفظ بھی تیرے
میری روح میرا احساس بھی تیرا
سنو اب فیصلہ کر لیا میں نے
کوئی انتظار نہیں باقی
کوئی احساس
کسی خواہش کا جگنو نہیں روشن
تمھار لمس بھی پیارا
تمھار ا وجود بھی بٹا ہوا
مجھے پھر بھی نہیں گلا
سنو کہ ضد چھوڑ دی میں نے
سنو اب سب کچھ سہ لونگا
بناتیرے بھی رہ لونگا
سنو تم میرا دائمی سچ ہو
مجھےیہ دنیا نہیں چاہئے
مگر اتنا تو کر دینا
مجھے اُس دنیا میں نہ بھلا دینا
مجھے اپنا بنا لینا
یہ وعدہ نبھا لینا
مجھے اپنا آپ دے دینا
وہاں بھی تشنہ لب نہ رکھنا
میراوعدہ ہےمیرے ہم دم
میں ہنس کے سب بھلا دونگا
میں چپ چاپ دیکھونگا
ان آنکھوں میں ڈوبونگا
ان باہوں میں سمٹوں گا
سنو اب ضد چھوڑ دی میں نے
کوئی حساب نہیں کرنا
کوئی سوال نہیں کرنا
تم دھیرے سے بس
اک مہر میر ی پیشانی پہ
مسکرا کرثبت کردینا
مجھے اپنا بنا لینا
او ر ہاں تم سے یہ بھی وعدہ ہے
میں اس احساس کو خود سے بھی چھپا لونگا
میں جیونگا جس کا بھی بن کر
وہ مجھ سے شاد ہی ہوگا
سنو مجھ کو دعدے نبھانے آتے ہیں
مجھے بس کہنا ہے اپنے رب سے کہ
جو دیا تو نے وہ تیرا
جو نہیں دیا وہ بھی تیرا
مجھ میں کیا ہے میرا
تو جس حال میں جیسے رکھے
سنو میں تم کو بتاوں گا
ک جب وعدے نبھانے ہوں
تو کیسے نبھاتے ہیں
تمیں افسو س ہے جاناں
کہ تم نے لب کیوں کھولے
یہ جرم بھی میرے ہی دامن میں رہنے دو
لو کچھ نہیں سنا میں نے
لو کچھ نہیں کہا تم نے
سبھی الزام مجھے دے دو
بھلے مجرم بنا ڈالو
میرا ضبط آزما ڈالو
کبھی ہارا نہ دیکھو گے
سنو سب بھول جاو تم
سب اختیار ہے تم کو
مگر خدارا یہ وعدہ یاد رکھنا
کہ تم میرا دائمی سچ ہو
مجھ کو وہاں مت بھلا دینا
اپنے انچل میں بسا لینا
میں سب دکھ بھو ل جاونگا
تیری باہوں میں جھول جاونگا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






