سودا نہ جب چکا تو خریدار بک گئے
اب کے بجائے سر رسن دار بک گئے
ان کو پعمبروں کی صفوں میں کرو شمار
بھائی کے ھا تھوں جو سر بازر بک گئے
دو بھا ئیوں کی جنگ ھے مٹ جائیں گے دونوں
اغیار شادماں ھیں کہ ھتیار بک گئے
مل تو گئی رہائی مگر کس گھڑی ملی
جب اپنے گھر کے سب درو دیوار بک گئے
ھم کیا بتائیں کل سر بازار کیا ھوا
کیسے فقیھ کیا کیا قلمکار بک گئے
خون جگر سے زیدی ھم نے جنھیں لکھا
اس مفلسی میں آج وہ اشعار بک گئے