سوزِ درون، زات کی آواز بن گیا
Poet: سید مجتبی داودی By: سید مجتبی داودی, Karachiسوزِ درون، زات کی آواز بن گیا
تارِ نَفَس، نفس نہ رہا ساز بن گیا
چرچا اس طرح ہوا تیرے خصال کا
ہر ظلم ناروا تیرا انداز بن گیا
ہر اک ستم جواز ستم ڈھونڈنے لگا
فتنہ جو تھا وہ فِتْنَہ پَرْداز بن گیا
کچھ حوصلوں نے،وقت نے کچھ ساتھ دے دیا
اک پر شکستہ قابل پرواز بن گیا
ہم کو تو آشکار کیا رنگ و نور سے
خود پردہ خیال میں اک راز بن گیا
جھونکا ہوا کا زیست کا عرفان دے گیا
شاعر یہ میرے واسطے اعزاز بن گیا
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






