سوغات ہجر کا
Poet: شبنمی فردوس By: shabnam firdaus, Patnaتمہیں آزاد کیا جاناں
عشق کے کچے دھاگوں سے
وفا کے جھوٹے بندھن سے
سبھی قسموں وعدوں سے
کئے تھے جو کبھی تم نے
ان چاندنی راتوں سے
جو گواہ تھیں محبت کی
ان لمحوں کی قید سے
جو تم نے سنگ گزارے تھے
خوش گمانی کے پھولوں سے
جو تم نے میرے
کاسۂ دل میں کھلائے تھے
تم آزاد پنچھی ہو
تمہیں قید میں رکھنا
مناسب ہے نہیں بالکل
مگر جانے سے پہلے
ذرا احسان کرجاؤ
میرے سینے میں
جو دل دھڑکتا ہے
تمہارے نام کا ہی
ورد کرتا ہے
دھڑکنے سے اسے
تم روکتے جاؤ
یہ جھیل سی آنکھیں
جو تمہارے خواب بنتی تھیں
ان میں ہجر کے تیرتے ابر کو
برسنے سے ذرا
تم روکتے جاؤ
سنو چاند کو بھی
تم سمجھاتے ہوئے جانا
اب وہ چاندنی کے پر
زمیں پر یوں نہ پھیلائے
میں دیکھوں گی اسے جب بھی
مجھے تم یاد آؤگے
ساری قسمیں سارے وعدے
میرا منہ چڑائیں گے
مگر یہ سب
تمہارے بس کی باتیں نہیں بالکل
تمہارے بس میں جو بھی تھا
وہ تو کردیا تم نے
سوغات ہجر کا اتنا حسیں
دے دیا تم نے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






