سوچتا ہوں کہ بدل لوں خود کو
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratسوچتا ہوں کہ بدل لوں خود کو مگر سچ کہ اب یہ ممکن بھی نہیں
سوچتا ہوں بہہ جاؤں کسی دریا کی طغیانی میں کہتے ہیں کنارے تیرا کوئی جرم نہیں
سوچتا ہوں اسے منگنا چھوڑ دو اب خدا سے
کہتی ہے دعا بعد اسکے تیری کوئی دعا بھی نہیں
سوچتا ہو کہ اب اسے اسی کے حال پہ چھوڑ دوں
کہتا ہے عشق وہ پاگل ہے سوا تیرے اسکا کوئی نہیں
سوچتا ہوں کہ اب چھوڑ دوں خود کو جلانہ خود کو رولانا
کہتا ہے سگریٹ سوا میرے تیرا کوئی رقیب بھی نہیں
سوچتا ہوں کہ اسے اس کی مخبت کی نظر کر دوں
دل کی صدا اچھا ہے وقت اسکا سوا اس کے کچھ نہیں
سوچتا ہوں اب کبھی وہ ملے تو نظریں جھکا کے گزر جاوں
کہتا ہے خیال اتنا نہ کر ظلم تیرے بس میں یہ بات نہیں
سوچتا ہوں کہ کر لو گھر کسی گورستاں اب میں اپنا
خواب کہتا ہے رک جا ارے رک جا اب تو بچا کچھ بھی نہیں
سوچتا ہوں کہ اب لوٹ بھی آئےتو منوں پھیر لو یہ کہہ کر کون ہو تم ؟
ایمان کہتا ہے نفیس سوا اسکے کسی اور کو دیکھا بھی تو نہیں ۔
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






