کبھی خیال تو کبھی خواب میں ڈوب گیا

Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujrat

کبھی خیال تو کبھی خواب میں ڈوب گیا
میں تھا وہ مسافر جو دریا کی خاک میں ڈوب گیا

کھڑا رہا تماشائی بنا منتظر تھا میرے آنے کا جو
خواہیش ہاتھ ملانے کی قبل ساحل کے میں ڈوب گیا

برگشت ہوا وہ ساحل سے کہکے لگاتا یہ کہانی تمام شد
میرا عشق میرا جنون پھر اسی ملال میں ڈوب گیا

عمر بھر کا تھا سفر میرا تھی مَرگ منزل میری
عمر گئی رہیگاگٸ میری عشقِ زن میں ڈوب گیا

اصلاحِ عزیزم کہ اب سنبھل جاٶ بے فائدہ ہے یہ ذد
جیوں کے مر جاٶں میں اسی کَشمکَش میں ڈوب گیا

مجھے عشق تھا ذات سے اسکی اسے خبر تھی کہ نہ تھی اسے
یہ اندیشهِ فِکر تھا نفیس میں اسی گمان میں ڈوب گیا
 

Rate it:
Views: 749
05 Dec, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL