سکولوں میں چھٹیاں ھونے والی ھیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaیا خدا ! اب تو ہی بتا
مجھ سے یا
میرے بڑوں
سے ھوئی ھیں
کیسی خطا
جس کے بدلے
مل رہی ھیں
مجھے ایسی سزا
روز دیکھتی ھوں
سکول بس کو آتے جاتے
پر میں اس میں
بیٹھ نہیں سکتی؟
دیکھتی ھوں بچوں
کو کتابیں پڑھتے
کیا میں انہیں
پڑھ نہیں سکتی ؟
یہ جو اتنا خوبصورت
لباس ھیں
کیا میں اسے
پہین نہیں سکتی ؟
تو تو جانتا ھیں ! میں
چھپ چھپ کےسکول بس کو
آتے جاتے دیکھتی ھوں
اور دوپہر ڈھلتے تک
انتظار کرتی ھوں
صرف وہ اک جھلک
پانے کے لیے
بچوں کو کتابیوں سے
بھرے بستے کے ساتھ
دیکھنے کے لیے
پر ! خدایا کیا تجھے پتا ہے
سکولوں میں چھٹیاں
ھونے والی ھیں
اب سکول بس نہیں
آنے والی ھیں
خدایا ! سب کہتے ھیں
کہ تو سب کی
دعا قبول کرتا ھے
خالی دامن میں
خوشیاں بھرتا ھے
خزاؤں کو بہار کرتا ھے
تو اک کن فیکون سے
نا ممکن کو ممکن کرتا ھے
خدایا ! تو پھر میں تجھ سے
دعا کرتی ھوں
میں تیرے آگے
فریاد کرتی ھوں
کہ میرے تقدیر میں
علم کر دے
میرے ہاتھوں میں
کتابیں بھر دے
میری خواہش
کو پورا کر دے
میرے لیے کن فیکون
کہ دے تو تو ایسا
کر سکتا ھے
خدایا ! تیرے ایک
کن فیکون
سے میری بات
بن جائے گی
مجھے خوشیاں
مل جائیں گی
میری تقدیر بدل
جائے گی
میری پہچان بن
جائے گی
میری زندگی سنوار
جائے گی
خدایا ! میری دعا
قبول کر لے
کہ مجھے علم کی
روشنی مل جائے گی
(یہ دعا اور یہ نظم ان بچوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہتے ھیں پر مجبویوں کے تحت کر نہیں سکتے)
(الله سے دعا ھیں کہ وہ سب بچوں کو علم حاصل کرنے کی توفیق دے آمین )
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






