سی سی یو کی اک رات
Poet: مونا شہزاد ۔ By: Mona Shehzad, Calgaryآج کل عجب حقیقتوں کا ظہور یورہا ہے
مجھ پر اذیتوں کا نزول ہورہا ہے
اب ہے وحشتوں کا بسیرا اس دل وحشی میں
یہ کیسا ستم ہے ؟
جو مجھ پر ہورہا ہے
نکل نہ جائے میرا دم ۔۔۔۔بس کچھ ایسی حقیقتوں کا علم ہورہا ہے
موت و زندگی کی کہانی ہے بہت چھوٹی سی
بس اس کا علم مجھے اب ہورہا ہے
آجائے گا سکون کبھی مجھے بھی
پر ابھی تو میرا جان کنی کا سلسلہ شروع ہوا ہے
یہ وفا کس وقت ناپید ہوئی دنیا سے
اس کا ادراک تو مجھے اب ہورہا ہے
سہمی سی زندگی ہے موت کے سائے میں
میرے رخ سے دھیرے دھیرے جیسے سورج غروب ہورہا ہے
میں دیوانہ وار کوشش کررہی ہوں۔
پر لگتا ہے کہ دلدل کا عزم مجھ پر قوی ہورہا ہے
دکھتا ہے جنھیں روز وشب کا سفر آسان
کبھی وہاں بھی جھانک کر دیکھو
سفید کوٹوں والوں ، ٹھنڈی دیواروں کے بیچ
دن کیسے گزرتا ہے؟
رات کیسے ڈھلتی ہے؟
ہے میری محبوب ہستیاں میرے سامنے
پر عجب ہے مولا مجھ سے تو کچھ بھی نہیں ہورہا
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






