شاہین عمر ایسے بتائی میں نے

Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjn

 راحت وصل نہ پائی میں نے
کاٹی ہمیشہ تنہائی میں نے

جس کو پرکھا وہی نکلا فریب کار
یوں ہر جا منہ کی کھائی میں نے

مرنے سے پہلےہیں کفن میں لپٹے
حنا ہی کچھ ایسے رچائی میں نے

تھی زندگی سیدھی سادھی سی
خود کانٹوں سے الجھائی میں نے

کوس لیا قسمت کو مٹا لیا ہر غم
نہ دی تیرے ظلم کی دہائی میں نے

کوئی نہیں قابل سخن کہوں حال دل
خاموش راہ اس لیے اپنائی میں نے

تا زندگی رہیں گے ہونہی در بدر
قیافہ نہیں حقیقت سنائی میں نے

مر گیا ہے دل یاس میں ڈوب کر
ہر شوق ہر تمنا دفنائی میں نے

صحرا میں جیسے فریب نخلستان
شاہین عمر ایسے بتائی میں نے

Rate it:
Views: 448
07 May, 2013