شب تنہائی میں تیرا عکس بنایا کریں گے
Poet: Sajid Bin Zubair By: Sajid Bin Zubair, Bahawalnagarشبِ تنہائی میں تیرا عکس بنایا کریں گے
کسی مُورت میں اِک صورت تیری سجایا کریں گے
کہیں جو لکھ بیٹھیں گے اَنجانے میں نام تیرا
چُوم چُوم کر لفظوں کو پھر مٹایا کریں گے
کبھی جو جَم جائینگی اَنجانے میں نگاہیں تُم پر
بہتی آنکھوں کو نَم کر کے بہلایا کریں گے
اُٹھا کر ریت صحرا سے جو لائیں گے کبھی
مِلا کر خواب سارے پھر ہواؤں میں اڑایا کریں گے
زیست لمحوں میں تِلملائے جو دل برہم
کم بخت کو ہیر رانجھے کا قصہ سنایا کریں گے
بُھولے سے کبھی جو آجاؤ گے سامنے میرے
اَب نہ کبھی بچپن کی طرح نظریں ملایا کریں گے
چھو نہ پائیں گے کبھی تُم کو سرے محفل
گہری نیندوں میں اَدھورے سَپنے سجایا کریں گے
بات کرنے کی خواہش جو اُمڈ آئے گی کبھی
بنا کر تَصویر تیری خوب شِکوے سُنایا کریں گے
ہم جو چاہ کر بھی تمہارے نہ ہو پائے
غمِ ہجراں میں یہی سِتم ہم کو جلایا کریں گے
تُم سے گلہ ہے نہ شِکوہ ہے جدائی کا
دل سُوز محبت کا ہم ماتَم منایا کریں گے
قِسمت کے لیکھ کون بدل پائے گا ساجد
رضاءِ الٰہی میں خَم ہو جایا کریں گے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے







