شب تنہائی میں تیرا عکس بنایا کریں گے

Poet: Sajid Bin Zubair By: Sajid Bin Zubair, Bahawalnagar

شبِ تنہائی میں تیرا عکس بنایا کریں گے
کسی مُورت میں اِک صورت تیری سجایا کریں گے

کہیں جو لکھ بیٹھیں گے اَنجانے میں نام تیرا
چُوم چُوم کر لفظوں کو پھر مٹایا کریں گے

کبھی جو جَم جائینگی اَنجانے میں نگاہیں تُم پر
بہتی آنکھوں کو نَم کر کے بہلایا کریں گے

اُٹھا کر ریت صحرا سے جو لائیں گے کبھی
مِلا کر خواب سارے پھر ہواؤں میں اڑایا کریں گے

زیست لمحوں میں تِلملائے جو دل برہم
کم بخت کو ہیر رانجھے کا قصہ سنایا کریں گے

بُھولے سے کبھی جو آجاؤ گے سامنے میرے
اَب نہ کبھی بچپن کی طرح نظریں ملایا کریں گے

چھو نہ پائیں گے کبھی تُم کو سرے محفل
گہری نیندوں میں اَدھورے سَپنے سجایا کریں گے

بات کرنے کی خواہش جو اُمڈ آئے گی کبھی
بنا کر تَصویر تیری خوب شِکوے سُنایا کریں گے

ہم جو چاہ کر بھی تمہارے نہ ہو پائے
غمِ ہجراں میں یہی سِتم ہم کو جلایا کریں گے

تُم سے گلہ ہے نہ شِکوہ ہے جدائی کا
دل سُوز محبت کا ہم ماتَم منایا کریں گے

قِسمت کے لیکھ کون بدل پائے گا ساجد
رضاءِ الٰہی میں خَم ہو جایا کریں گے

Rate it:
Views: 1419
21 Jul, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL