شب تنہائی کے عالم میں جب یہ دل تنہائیوں کے ساز بجاتا ہے تب کچھ لمحوں کے لیے چاند بھی ڈر کر سہم کر بادلوں کی اوٹ میں چھپ جاتا ہے شب تنہائی کے عالم میں