شب فراق کے لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
Poet: UA By: UA, Lahoreشب فراق کے لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی نہ آیا کریں
میری نیندوں میں آکے مجھ کو جگایا نہ کریں
میرے خوابوں میں آکے مجھ کو ستایا نہ کریں
شب فراق کے لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی نہ آیا کریں
پھول ہی پھول میرے راستوں میں کھلنے لگے
ہجر کے گیت میرے سامنے گایا نہ کریں
شب فراق کہ لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی آیا نہ کریں
میرے اطراف میں جو روشنی کا ہالہ ہے
اندھیرے میری روشنی کو ڈرایا نہ کریں
شب فراق کہ لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی نہ آیا کریں
میں جو تصویر حسیں رنگوں سے بنائی ہے
اسے گمان کے پانی سے مٹایا نہ کریں
شب فراق کہ لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی آیا نہ کریں
میری وفا نے جو شمع فروزاں کردی ہے
اسے طوفانی ہواؤں سے بجھایا نہ کریں
شب فراق کہ لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی نہ آیا کریں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






