شبنم بھی دم بخود سرِ گلاب ہے
Poet: رعنا تبسم پاشا By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAبوند بوند آنسو
دیوارِ دل پہ بہہ رہے ہیں
نظر نظر پُر آب ہے
شبنم بھی دم بخود سرِ گلاب ہے
تیرے غم کو ثبات ہے
یہ سدا کا پُر شباب ہے
جب سُونے افق پہ سورج ابھرے
اور اندھیارے کی چادر میں
اُجلے چھید پڑ جائیں
وقت اپنا پہلو بدلے
تب یاد ایک اور گذری ہوئی
ہجر کی کالی رات کی
مجھ کو بہت رُلاتی ہے
میری ہر صبحِ ملال کی جلن
میری ہر شبِ آشوب کی چبھن
میرے اندر دور تک طلوع ہو جاتی ہے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






