شمع

Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabad

شمع ہے، دیپ ہے نہ کوئی دِیا ہے گھر میں
گھر تو گھر ہے، روشنی نہیں شھر بھر میں

یونہی تو نہیں ہے مجھے ظلمتوں سے رغبت
کہ جچتی نہیں اب کوئی ضیا اب میری نظر میں

پھرتا رہا میں دربدر، اِسی سوچ میں گرفتار
کوئی تو ھو صاحبِ دل پتھروں کے شھر میں

مت پوچھیے‘ کیا ہے حاصلِ دردِ جاناں
دلِ شکستہ ہی ملا ہے وفاوں کے ثمر میں

زخم و درد سے کُچھ ایسے مراسم رہے گہرے
کہ آنے لگا اِک عجب مزہ ، سوزِ جگر میں

حسرتوں کے پیچھے اِک عمر ہے کاٹی ہم نے
سکوں ہوا میسّر گر کہیں تو رضا و صبر میں

یونہی نہیں بِتایا رضا یہ عرصہ حیات
سیکھا ہے بہت کچھ آرزوں کے سفر میں

Rate it:
Views: 709
04 Oct, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL