شمع بے اثر سی لگتی ہے

Poet: Shama Ansari By: Shama (JWS), Gujranwala

 ہر لفظ بے معنی اور دعا بے اثر سی لگتی ہے
جب سے آپ روٹھے ہو عبادت بے اثر سی لگتی ہے

چمن اُجڑ گیا پھولوں میں خوشبوں نہیں رہی
جب سے آپ روٹھے ہو بارش بے اثر سی لگتی ہے

میری زندگی تو تھی تیری ہنسی کی قوس و قزح
اب نہیں ہے وہ دھنک تو! ہر ادا بے اثر سی لگتی ہے

پہلے پڑتی تھی ڈانٹ تو کوئی حرف تمنا لکھتی تھی
اب لفظ نہیں بنتے شاعری بے اثر سی لگتی ہے

ہیں سبھی چاہنے والے اک تو ہی نہیں رہا ہے
اب ملتی نہیں وفا تو محبت بے اثر سی لگتی ہے

ملنے کو تیرے ہر کوئی دیتا رہا دعا مجھے
انمیں ہاتھ نہیں تیرے شامل تو ہر صدا بےاثر سی لگتی ہے

تمام رات جلتے رہتے ہیں میری حسرتوں کے چراغ
جب نہ ہو ساتھ پروانہ تو شمع بے اثر سی لگتی ہے

Rate it:
Views: 1351
15 Dec, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL