شَمع
Poet: سید محمد زوہیب شاہ By: سید محمد زوہیب شاہ, Karachiمیں اک شَمع ہوں، طوفان غَم نے ہے بُجھایا مُجھ کو
اِسی واسطے چند ایک مِزاج، ظالمانہ لۓ پھرتا ہوں
میرے سَبھی یار خوش باش جانتے ہیں مُجھ کو
اور میں اپنی ذات میں راز کا خزانہ لۓ پھرتا ہوں
سَلیقَۂِ گُفتار کا تو کوئ، اندازہ ہی نہیں مُجھ کو
رَسمِ زمانہ کی خاطر، بات کا بہانہ لۓ پھرتا ہوں
کہنے والوں نے جب کہا، کَم عَقل ہی کہا مُجھ کو
اَندیشہ ہے کہ حقیقت نہیں، فَسانہ لۓ پھرتا ہوں
چہروں سے جانچنے کا ہُنر، معلوم نہیں مُجھ کو
دِلوں کو پَرکھنے کا میں اب، پیمانہ لۓ پھرتا ہوں
جُنبِشِ لَب سے مُیسّر، کامیابی کا سہرہ مُجھ کو
اپنی خاموشی میں بھی اِک، دیوانہ لۓ پھرتا ہوں
وقت نے دکھاۓ ہیں ارادتاً چھوڑنے والے مُجھ کو
طَبیعت میں اب سے اپنی، مُنصِفانہ لۓ پھرتا ہوں
نہ سَفر کی خَبر، نہ مَنزِل کا کُچھ معلوم مُجھ کو
ذہن میں میرے بَس آخری، آشِیانہ لۓ پھرتا ہوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






