انجان
Poet: سید محمد زوہیب شاہ By: سید محمد زوہیب شاہ, Karachiاِک شام میں آیا تیری چوکھٹ پر
تیری دید کا تھا انتظار بہت
حَوَس نہیں تھی، پیار تھا یہ
تیرے عشق کا بہت وفادار تھا میں
تیرے شہر میں کئی بار آۓ تھے
تیری مہک نے رستے بتلاۓ تھے
اُن گلیوں میں اِک سکون تھا
ملاقات کا بھی اِک جنون تھا
وہ نہر و آبشار اور باغ سبھی
کہہ رہے کہ تو موجود ہے یہیں
دیکھا میں نے اِک حویلی کو
دل نے جَنم دیا اِک پہیلی کو
رَستے تو سارے ٹھیک تھے
گَردِش میں سِتارے ٹھیک تھے
پھر دل میں کیوں بے چینی تھی
باتیں تو بہت سی کہنی تھیں
اور! پھر وہی ہوا جس کا ڈَر تھا
وہ سَجا ہوا تیرا ہی گھر تھا
تیرا چہرا بڑا پُر نور تھا
قدرت کا کوئ خاص ظہور تھا
لبوں پر ایک کپکپاہٹ تھی
آنکھوں میں اک شرماہٹ تھی
تو نے کہہ دیا کہ "قبول ہے"۔
میں چل دیا کہ رُکنا فضول ہے
اور! پھر شام بھی اب ڈھل گئ
ٹھنڈی ہَوا بھی اب چَل گئ
یادوں کا دِیہ بھی اب بُجھ گیا
باتوں کا دریا بھی اب رُک گیا
واپسی کا اب کوئ سفر نہیں
دیکھنے کا اب کوئ منظر نہیں
بھول گیا میں تیرے شہر کو
سہہ گیا میں صبر سے قہر کو
اب نہ ہو گی ملاقات کبھی
اب نہ ہو گی تیری بات کبھی
،نام تو میرا 'ذوہیب' ہے مگر
تیرے لۓ اب انجان ہوں میں
تیرے لۓ اب انجان ہوں میں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






