شکوہ
Poet: ڈاکٹر شاکرہ نندنی By: ڈاکٹر شاکرہ نندنی, Portoکبھی خواب بنتی تھی دنیا، کبھی ساز و نغمہ کی محفل
اب ہر ایک دل ہے خموش، ہر نظر ہے گہری و مضمحل
کہاں وہ صبحیں کہ نرماہٹ میں چپکے راز چھپے ہوتے
کہاں وہ شامیں کہ تنہائی میں بھی کچھ ساز بجے ہوتے؟
کہاں گئی وہ ہنسی فضا کی؟ وہ نرمی، وہ چہکار کہاں؟
ہر شے میں کیوں اک بیزاری ہے؟ ہر منظر میں انکار کہاں؟
اے وقت! تجھے کیوں فرصت ہے صرف مٹانے کی؟
تُو دیتا کیوں ہے خواب ہمیں، پھر چھیننے کی رسمیں کیوں؟
ہم نے چراغ جلائے تھے، دیواروں کو گواہ کیا
پھر بھی اندھیروں سے کیسا ہے تیرا خوں رنگ ربطِ وفا؟
ہم نے کتابیں لکھیں، نغمے گائے، ساز بنائے
اور تیری آندھی نے ہر شے کو بے نام کرایا
کیا تجھ کو ہماری لگن کی قسم نہ تھی؟
کیا ہم فقط ایک لمحۂ خاموشی کے قابل تھے؟
اے فطرت! تُو بھی چپ کیوں ہے؟ کیوں نہ جواب دیتی ہے؟
کیا تیرے اندر بھی اب کوئی زندہ نغمہ نہیں بچا؟
کبھی ہم نے تجھ سے رنگ چرا کر، خوشبو سے خواب بنائے،
آج تُو ہمیں خالی ہاتھ، بن موسم، کیوں لوٹائے؟
یہ دنیا کیوں زخموں کی منڈی بن کر رہ گئی؟
جہاں ہنسی بھی تجارتی، اور اشک بھی نیلامی ہو گئے؟
اے دل! تُو کب تک صبر کرے؟ کب تک صدا گُم رہنی ہے؟
کب کوئی سننے والا ہو گا؟ کب یہ صدی ٹھہری ہو گی؟
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






