شہر کے حالات پہ خواتین کے کردار پر مَردوں کو جواب ۔۔۔
Poet: Dr. Humera Islam By: Dr. Humera Islam, Karachi.ویسے تو سب کہتے ہیں کہ مجھ میں عقل نہیں
کوئی بات مجھ سے کرنا ذرا بھی سہل نہیں
کم عقل ہوں سمجھداری سے مجھے کام نہیں
یہ صفت میری صنف میں کچھ عام نہیں
کولہو کا بیل بن کے گزاروں میں زندگی
محنت سے اپنی دوسروں کی سنواروں میں زندگی
ہوں پیر کی جوتی مجھے بتلایا گیا ہے
دستِ نگر ہوں اسقدر جتلایا گیا ہے
گھر میں میری فریاد جب سنتا نہیں کوئی
سچے دل سے جب میرا بنتا نہیں کوئی!!
ایک بات منوانے کو کروں سو سو میں بہانے
اس صنف کے دکھڑے ہیں یہ سو سال پرانے
اس دور میں مردوں کی جب سنتا نہیں کوئی
اس کم عقل فرد کی کیسے سنے کوئی ؟
جو احتجاج ہوگا تو پھر جوتے بھی لگیں گیں
سو طرح کے کردار پہ الزام لگیں گے
پھر لوگ اسی بات پر الزام دھریں گے
پر طرح سے عورت کو پھر بدنام کریں گے
احوال اس بدنامی کا چسکے سے سنیں گے
دو ۔۔ چار بڑھا کر پھر کہیں اور کہیں گے
بے فائدہ رہے گا یہ اقدام ہمارا
سمجھو اگر تو ہے یہ کام تمہارا
جب مرد ہی چاہیں گے تو آئے گا انقلاب
عورت کے رخ پہ رہنے دو تم اُس کا یہ نقاب
یہ کام ہے مردوں کا اسے مرد کریں گے
جماعت نہ کرسکی تو اسے فرد کریں گے
یہ کام ہے مردوں کا اسے مرد کریں گے
مرد کریں گے ہاں اسے مرد کریں گے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






