شہید انقلاب
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachi-Pakistanجو اپنی فکر کی کرنوں کی جگمگاہٹ سے
شب سیاہ کے لبادے کو چاک کرتا تھا
جو اپنے عزم و یقیں اور استقامت سے
یزید وقت کی سازش کو چاک کرتا تھا
نکھارتا تھا جو ذہنوں کو فکر و دانش سے
خطائیں بھی وہ بڑے پن سے معاف کرتا تھا
بکھیر کر وہ لٹاتا خزانے حکمت کے
وہ بحرعلم کبھی جو خطاب کرتا تھا
وہ انقلاب کا سورج غروبِ شام ہوا
وفاء خلوص کا وہ عہد تھا تمام ہوا
وطن سے دور شہادت تیرا مقام ہوا
تیرا شعور اے رہبر ہے ہر سو عام ہوا
شہید ہوکے بھی سہرا فتح کا نام ہوا
تیری وفاء کو اے عمران یوں سلام ہوا
نہ روک پائیگی ظلمت تیرے اجالوں کو
شعور و فکر سے روشن تیرے خیالوں کو
تہرے لہو سے ملی انقلاب نو کی نوید
رکھے گا یاد مؤرخ تیرے حوالوں کو
تیرے لہو سے اجالوں کو پھر دوام ملا
حیات بخش دی بجھتے ہوئے چراغوں کو
تیرے لہو سے ملا حوصلے کا درس ہمیں
وفاء کی راہ دکھائی ہے چاہنے والوں کو
جو درس دیتا تھا اس پر عمل بھی کر ڈالا
وفاء طلب سے انوکھا عدل بھی کر ڈالا
جو وقت آیا تو جاں بھی نثار کر دونگا
یہ جملہ خون سے اپنے نقل بھی کر ڈالا
ہمارے ہونٹوں پہ پہلے ہی سسکیاں تھیں فقط
یوں تنہا چھوڑ کر ہم سے شغل بھی کر ڈالا
جس انقلاب کے نغمے تو گنگنا تا تھا
یقیں ہے اسکا ہی رستہ سہل بھی کر ڈالا
جبین وقت کے ماتھے سے ظلم و نفرت کی
کریہہ بدنما سلوٹ کو صاف کرنا ہے
یزید وقت نے ہم پر ستم جو ڈھائے ہیں
اب ہم نے سب ہی کا اس سے حساب کرنا ہے
وہ جس نے خون کے دریا یہاں بہائے ہیں
اسی فرعون کا جینا عذاب کرنا ہے
تیرے لہو کی قسم پاک سرزمیں کو ہمیں
نظام کہنہ کی ظلمت سے پاک کرنا ہے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا







