عدم کے مسافر

Poet: Azeem Baig By: Azeem Baig, Karachi

عدم کے راہ وہ اس خاموشی سے جاتا ہے
ذرا سی بات کا کوئی اتنا برا مناتا ہے

ذہن کے کسی گوشے میں نہ تھا یوں ہو گی جدائی
عارضی جدائی جسے نہ تھی اب ہمیشہ کا غم کھاتا ہے

شاید ختم ہی ہوگئی تھی لگن دنیا میں رہنے کی
ورنہ کون اپنا درد کثیر یوں چھپاتا ہے

جس کے تن میں لہو کا دریا پھوٹ رہا تھا
قابل رشک ہے پھر بھی مسکراتا ہے

جن پہ تکیہ تھا وہ بھی چھوڑ گئے غم کی اس گھڑی میں
غم بانٹنے کے وقت کوئی یوں چھوڑ کہ جاتا ہے

خدا سلامت رکھے سب بچوں پر ماں کا سایہ
ماں نہ ہو جن کی ان کے ناز و نخرے کون اٹھاتا ہے

Rate it:
Views: 861
26 Jun, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL