عرصہ ہوا آتش عشق کو بجھائے بیٹھا ہوں
Poet: H.M. Salman Amin By: H.M. Salman Amin,عرصہ ہوا آتش عشق کو بجھائے بیٹھا ہوں
اب تو اُس بےوفا کا چہرا بھی بھُلائے بیٹھا ہوں
جب دیکھنے لگتا ہوں اُس کی کوئی پرانی تصویر
تُو کہتا ہے دل مرا کیوں زخموں کو بڑھائے بیٹھا ہوں
بسایا تھا جن کو اپنے دل میں اتنی چاہ سے
اسکی یادوں سے رنگین کتابوں کو جلائے بیٹھا ہوں
جاتی نہیں اُس کی خوشبو مرے وجودِ بیقراں سے
پر پھر بھی اُسکو اپنی مرادوں سے مٹائے بیٹھا ہوں
جیتنے ستم ڈھائے ہیں اُس نے سب یاد ہیں مجھے
اب تو صرف رحمت خداوندی کی آس لگائے بیٹھا ہوں
زخموں سے چور بدن کو بستر پہ لٹائے بیٹھا ہوں
طبیب کے انتظار میں سب دوائیں آزمائے بیٹھا ہوں
وہ تو خوش ہے مجھ سے دور ہو کے بھی اپنی زندگی میں
پھر نجانے کیوں میں زخموں کی دوکاں سجائے بیٹھا ہوں
جب پوچھتے ہیں میرے احباب احوال انکا مجھ سے
تو ہوتا ے جواب میرا میں تو ان کو دفنائے بیٹھا ہوں
اے سلمان آزمائش میں صبر سے بہتر کچھ نہیں
آگے بڑھنے کی کوشش میں خود کو تھکائے بیٹھا ہوں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






