عرصہ ہوا آتش عشق کو بجھائے بیٹھا ہوں
Poet: H.M. Salman Amin By: H.M. Salman Amin,عرصہ ہوا آتش عشق کو بجھائے بیٹھا ہوں
اب تو اُس بےوفا کا چہرا بھی بھُلائے بیٹھا ہوں
جب دیکھنے لگتا ہوں اُس کی کوئی پرانی تصویر
تُو کہتا ہے دل مرا کیوں زخموں کو بڑھائے بیٹھا ہوں
بسایا تھا جن کو اپنے دل میں اتنی چاہ سے
اسکی یادوں سے رنگین کتابوں کو جلائے بیٹھا ہوں
جاتی نہیں اُس کی خوشبو مرے وجودِ بیقراں سے
پر پھر بھی اُسکو اپنی مرادوں سے مٹائے بیٹھا ہوں
جیتنے ستم ڈھائے ہیں اُس نے سب یاد ہیں مجھے
اب تو صرف رحمت خداوندی کی آس لگائے بیٹھا ہوں
زخموں سے چور بدن کو بستر پہ لٹائے بیٹھا ہوں
طبیب کے انتظار میں سب دوائیں آزمائے بیٹھا ہوں
وہ تو خوش ہے مجھ سے دور ہو کے بھی اپنی زندگی میں
پھر نجانے کیوں میں زخموں کی دوکاں سجائے بیٹھا ہوں
جب پوچھتے ہیں میرے احباب احوال انکا مجھ سے
تو ہوتا ے جواب میرا میں تو ان کو دفنائے بیٹھا ہوں
اے سلمان آزمائش میں صبر سے بہتر کچھ نہیں
آگے بڑھنے کی کوشش میں خود کو تھکائے بیٹھا ہوں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






