عرصہ ہوا آتش عشق کو بجھائے بیٹھا ہوں
Poet: H.M. Salman Amin By: H.M. Salman Amin,عرصہ ہوا آتش عشق کو بجھائے بیٹھا ہوں
اب تو اُس بےوفا کا چہرا بھی بھُلائے بیٹھا ہوں
جب دیکھنے لگتا ہوں اُس کی کوئی پرانی تصویر
تُو کہتا ہے دل مرا کیوں زخموں کو بڑھائے بیٹھا ہوں
بسایا تھا جن کو اپنے دل میں اتنی چاہ سے
اسکی یادوں سے رنگین کتابوں کو جلائے بیٹھا ہوں
جاتی نہیں اُس کی خوشبو مرے وجودِ بیقراں سے
پر پھر بھی اُسکو اپنی مرادوں سے مٹائے بیٹھا ہوں
جیتنے ستم ڈھائے ہیں اُس نے سب یاد ہیں مجھے
اب تو صرف رحمت خداوندی کی آس لگائے بیٹھا ہوں
زخموں سے چور بدن کو بستر پہ لٹائے بیٹھا ہوں
طبیب کے انتظار میں سب دوائیں آزمائے بیٹھا ہوں
وہ تو خوش ہے مجھ سے دور ہو کے بھی اپنی زندگی میں
پھر نجانے کیوں میں زخموں کی دوکاں سجائے بیٹھا ہوں
جب پوچھتے ہیں میرے احباب احوال انکا مجھ سے
تو ہوتا ے جواب میرا میں تو ان کو دفنائے بیٹھا ہوں
اے سلمان آزمائش میں صبر سے بہتر کچھ نہیں
آگے بڑھنے کی کوشش میں خود کو تھکائے بیٹھا ہوں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






