عید ، مبارک نہیں
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Wylieعید قرباں ، ، ، ایثار کا نشاں سُرور جہاں
عید جاوداں ، ، ، تقرب ہی عیدیاں
عید کے پیغام رساں ، ، ، ، ، پیغام براں
دلداراں و دلنوازاں ، ، ، ، ، جان ِ جاناں
دوستاں ، مہرباں ، خلوص ِ بیکراں
عید! دھنک رنگ ، جواں امنگ ، شوخ و شنگ
عید! زربفتی و اطلسی ، ریشمی و شبنمی، سراپاشگفتگی
عید! عروسی و بنارسی ، لطف آفریں و بہت حسیں
عید! نوید ِ مُسرتاں ، عکس ِ زرنگاراں ، سرود و رقص ِ بہاراں
عیدالاضحیٰ ! یوم ِ حسرتاں ، اضطراب ِ جاں ، انتظاراں
نیو یارک! شہر ِ یاراں . . . . . عارف الدین!! غمخواراں
چارہ گراں . . . بندہ پروراں . . . نازبرداراں . . . تیشہ داراں
دلنشیں صنم ! محرم !! اب تو کرم
تیری یاد کرب و بلا ، میں گرفتار و مبتلا
چشم محروم ِ دید ، ، ، بہ موقع روز ِ سعید
اشکوں کی لڑی ، ساون کی جھڑی
کانچ کے ایوانوں میں ، میرے شبستانوں میں
پیہم تنہائی . . . . . مفقود تاب ِ شکیبائی
نظر تمنائی ِ نگاہ ِ درد آشنائی
دل ِ مضطر رعنا! آج بھی بہت افسردہ بہت اداس
دور دیس بسنے والا ، آ جاتا کاش! اِس بار تو میرے پاس
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






