غربت نے لے لی جان پر تمہیں اس سے کیا

Poet: عنیزہ By: Oniza, Karachi

وہ بھوکا ہے کل شام سے پر تمہیں اس سے کیا
وہ بیٹا تو نہیں تمہارا تمہیں اس سے کیا

مرجاۓ گا وہ سردی سے اک کمبل کی تلاش میں
پر وہ بھاٸی تو نہیں تمہارا تمہیں اس سے کیا

وہ بھٹکتا رہے گا رات بھر رزق کی تلاش میں
وہ جاۓ گا نہ گھر یہ خالی ہاتھ لیے

کہ بیٹھا ہے کوٸی وہاں اس کا منتظر ہوۓ
کسی کی امید ہے وہ ناجانے کتنی دیر سے

بلاتی ہے اسکو بابا اک ننھی سی گڑیا
لپٹ جاتی ہے سینے سے وہ دوڑتی ہوٸی

ہے ننھی جگمگاتی آنکھوں کی وہ امید
کہیں مر نہ جاۓ بھوکی وہ ننھی سی گڑیا

ہے مانگتا وہ روٹی نہ دینا تم اسے
اک بھکاری سمجھ کے جھڑک دینا تم اسے

مرجاۓ وہ بھوکا تو تمہیں اس سے کیا
مرجاۓ گی گر ننھی پری تو تمہیں اس سے کیا

وہ بیٹی تو نہیں تمہاری
پھر تمہیں اس سے کیا

Rate it:
Views: 1909
17 Dec, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL