غربت نے لے لی جان پر تمہیں اس سے کیا
Poet: عنیزہ By: Oniza, Karachiوہ بھوکا ہے کل شام سے پر تمہیں اس سے کیا
وہ بیٹا تو نہیں تمہارا تمہیں اس سے کیا
مرجاۓ گا وہ سردی سے اک کمبل کی تلاش میں
پر وہ بھاٸی تو نہیں تمہارا تمہیں اس سے کیا
وہ بھٹکتا رہے گا رات بھر رزق کی تلاش میں
وہ جاۓ گا نہ گھر یہ خالی ہاتھ لیے
کہ بیٹھا ہے کوٸی وہاں اس کا منتظر ہوۓ
کسی کی امید ہے وہ ناجانے کتنی دیر سے
بلاتی ہے اسکو بابا اک ننھی سی گڑیا
لپٹ جاتی ہے سینے سے وہ دوڑتی ہوٸی
ہے ننھی جگمگاتی آنکھوں کی وہ امید
کہیں مر نہ جاۓ بھوکی وہ ننھی سی گڑیا
ہے مانگتا وہ روٹی نہ دینا تم اسے
اک بھکاری سمجھ کے جھڑک دینا تم اسے
مرجاۓ وہ بھوکا تو تمہیں اس سے کیا
مرجاۓ گی گر ننھی پری تو تمہیں اس سے کیا
وہ بیٹی تو نہیں تمہاری
پھر تمہیں اس سے کیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







