غزل "ناخوش ہوں"
Poet: اُسامہ علی By: اُسامہ علی , Karachiمیں نا انصافئ منصف کے نذرانے سے ناخوش ہوں
میں جشنِ فتح پر ناجانے پچھتانے سے ناخوش ہوں
میں کھلتا اک چمن سینے میں مرجھانے سے ناخوش ہوں
میں اپنے غم کی زد، سگریٹ سلگانے سے ناخوش ہوں
منازل کامیابی کی سبھی طے کر چکا ہوں پر
میں آغوشِ خوشی میں ڈوبے کاشانے سے ناخوش ہوں
میں نے لوگوں کو دیکھا ڈوبتے رنجش کے دریا میں
میں ساحل پر اکیلا بیٹھے رہ جانے سے ناخوش ہوں
ہیں اعلیٰ ظرف ہر منظر کی جو تصویر لیتے ہیں
میں دل کے یادِ بچپن یاد دلوانے سے ناخوش ہوں
ہیں گُل چھرّے گلستاں میں اسی برسات کے باعث
میں ہمدردی میں، اشکِ ابر بہہ جانے سے ناخوش ہوں
بڑی اپنائیت سے وہ ملا پہلے پہل اور اب
نبھا کر وعدہ ناخوش ہوں، اُسے پانے سے ناخوش ہوں
میں تنہائی میں خوش تھا، دوستی کرلی فلانے سے
علیٓ خوش ہوں مگر اس دوست انجانے سے ناخوش ہوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






