تیرا وہ درد خالدی
Poet: انور خالدی By: انور خالدی, Sialkotسنو تو اے حریم جاں
کوئی نہیں رہا یہاں
جو درد دل عطا کرے
جہاں سے ماورا کرے
یہ کھوکھلا ہجوم ہے
یہاں کسی کو کیا خبر
کہ وحشتوں کے جال میں
یہ زندگی الجھ گئی
کوئی چراغ بجھ گیا
کوئی زمین جل گئی
یہ روز و شب کی کشمکش
خود ایک کشمکش میں ہے
کہ اس جہان شوق میں
عداوتوں کے ذوق میں
محبتوں کی روک میں
بھلا ملا تو کیا ملا
ہم ایسے دل نشیں فقط
پڑے ہیں انتظار میں
کہ زندگی عطا کرے
وہ درد دل پھر اک دفعہ
جو وصل یار سے ملے
گل بہار سے ملے
جو درد خود دوا بھی ہو
علاج ماسوا بھی ہو
دکھوں کی ابتدا بھی ہو
خوشی کی انتہا بھی ہو
مگر وہ درد اب کہاں
یہ کھوکھلا ہجوم ہے
تیرا جنون دل ہے اور
فضائے سرد خالدی
کہ اب تو بزم دل سے بھی
اٹھی ہے گرد خالدی
تیرا وہ درد خالدی
تیرا وہ درد خالدی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






