غم اتارا گیا سبھی کے لیے
Poet: شکیل By: شکیل, Burewalaغم اتارا گیا سبھی کے لیے
اشک اترے ہیں آدمی کے لیے
اک تجلی مجھے عنایت ہو
میری آنکھوں کی روشنی کے لیے
جی کے لگتا نہیں مناسب ہے
زندگی لفظ زندگی کے لیے
بار ہوتا رہا کسی کے سپرد
شکر کرتا رہا کسی کے لیے
میں نے حد درجہ کوششیں کر لیں
دل بنا ہی نہیں خوشی کے لیے
کچھ درندے بھی جانے جاتے ہیں
اپنی انسان دوستی کے لیے
سب نہیں جانتے یہ وہ در ہے
یوں تو دروازہ ہے سبھی کے لیے
اس نے بادل ہٹا لیے عامرؔ
چند لمحوں کی چاندنی کے لیے
More Sad Poetry
رنج و الم زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
Tanveer Ahmed






