غم بھی وہیں په رہ گیا،

Poet: .. By: Sumera Ataria, GUDDU

غم بھی وہیں په رہ گیا، ہم بھی وہیں پہ رہ گئے
دامنِ چشم سے مگر آنسو تمام بہہ گئے

اس نے بھی کچھ نہیں کہا، ہم نے بھی کچھ نہیں کہا
وہ بھی غموں کو سہہ گیا، ہم بھی غموں کو سہہ گئے
...
چاروں طرف جہان میں، جس پہ سزائے ہجر تھی
وہ بھی وہ بات کہہ گیا، ہم بھی وہ بات کہہ گئے

ہر کوئی کر کے آنکھ نم، مجھ کو سُنا رہا ہے غم
لگتا ہے سب جہاں کے غم ، میرے لیے ہی رہ گئے

ہم سے بتا جہانِ غم ، کیا تجھے اور چاہیئے
سننا بھی جو محال تھے، ہم تو وہ غم بھی سہہ گئے

کہنے لگے کہ دوستی، صرف نہیں ہے زندگی
لوگ عجیب تو نہ تھے، بات عجیب کہہ گئے

Rate it:
Views: 553
20 May, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL