غم کی ترتیب سلیقے سے لگا سکتا تھا
Poet: یونس تحسین By: Faizan, Sialkotغم کی ترتیب سلیقے سے لگا سکتا تھا
یعنی میں روز ترا ہجر منا سکتا تھا
صبر نے چیخ گلے سے نہیں آگے بھیجی
ورنہ دیوانہ بہت شور مچا سکتا تھا
غیرت عشق نے پتھر کا بنایا مجھ کو
ورنہ میں خاک وہاں اڑ کے بھی جا سکتا تھا
تنگیٔ دامن صد چاک ترا کیا رونا
میں نمائش میں فقط زخم دکھا سکتا تھا
تیری نفرت سے اگر تھوڑی سی فرصت ملتی
میں محبت میں بہت نام کما سکتا تھا
آپ بیکار سمجھ کر جسے چھوڑ آئے ہیں
اک وہی شخص مری جان بچا سکتا تھا
اس کی معصوم طبیعت کی حیا نے روکا
ورنہ میں اس کو بڑے خواب دکھا سکتا تھا
یہ تو اس چہرۂ پر نور کا جادو سمجھو
ورنہ درویش کہاں جال میں آ سکتا تھا
یوں ہی زحمت سے اکیلے مجھے برباد کیا
زندگانی میں ترا ہاتھ بٹا سکتا تھا
تم ہی تحسینؔ مری قدر نہیں کر پائے
میں تو وہ تھا جو گیا وقت بھی لا سکتا تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






