دل کی آواز پہ بیعت بھی تو ہو سکتی ہے

Poet: یونس تحسین By: Umair Khan, Peshawar

دل کی آواز پہ بیعت بھی تو ہو سکتی ہے
تم اگر چاہو محبت بھی تو ہو سکتی ہے

میں جسے سمجھا ہوں آوارہ ہوا کی دستک
تیرے آنے کی بشارت بھی تو ہو سکتی ہے

زندگی تیرے تصور سے ہی مشروط نہیں
تیری یادوں سے ہلاکت بھی تو ہو سکتی ہے

آخری بار تجھے دیکھنا حسرت ہی نہیں
مرنے والے کی ضرورت بھی تو ہو سکتی ہے

کب ضروری ہے کہ ہم قیس کی سنت پہ چلیں
مذہب عشق میں بدعت بھی تو ہو سکتی ہے

اس لئے دیکھتا رہتا ہوں مسلسل تجھ کو
آنکھ محروم بصارت بھی تو ہو سکتی ہے

لفظ شعروں میں جو ڈھلتے نہیں تحسینؔ مرے
سوچ کے رزق میں قلت بھی تو ہو سکتی ہے

Rate it:
Views: 699
17 Aug, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL