غمگساروں میں
Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ, Quettaتُمہاری یاد کی مہکار سی ہے یادگاروں میں
کہِیں جا کر بسے ہو تُم گگن کے چاند تاروں میں
خزائیں بھی بہاروں سی تُمہارے دم قدم سے تِھیں
خزاں سی رقص کرتی ہے تُمہارے بِن بہاروں میں
ہمارے دیس میں افلاس کا طُوفان آیا ہے
کھڑے ہیں لوگ آٹے کے لیے دیکھو قطاروں میں
گُزاری زندگی اپنی نوالہ ڈُھونڈتے یارو
تمنّا تھی کہ جا بیٹھیں گے پھر بچپن کے یاروں میں
سُنا ہے تُم محبّت کی نظر کرنے پہ مائل ہو
ہمارا نام بھی شامل رکھو عرضی گزاروں میں
چراغِ شب کے بُجھتے ہی بدل لیتے ہیں خیمہ ہی
بہُت سے لوگ ایسے بھی تو ہوں گے غمگُساروں میں
کناروں پر پہنچ کر دل کی ناؤ ڈُوب جاتی ہے
یقینأ ہے کوئی آسیب سا دریا کے دھاروں میں
اُسے آسائشیں جِتنی بھی مُمکن تِھیں مُہیّا کِیں
گِھسِٹتے ہم نے کاٹی زِندگانی ریگزاروں میں
تُمہارے دِلنشیں ہونٹوں پہ بجتی ہے ہنسی ایسے
کہ جیسے جلترنگیں اُٹھ رہی ہوں آبشاروں میں
ہمی تو تھے کہ جِس نے گُلستاں کی آبیاری کی
ہمارا نام ہی شامِل نہِیں ہے آبیاروں میں
رشِیدؔ اپنی حقِیقت جان لو، دولت اپھارا ہے
اکڑ ایسی بھی کیا، پُھولے ہوا جیسے غُباروں میں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






