غمگساروں میں
Poet: رشِید حسرتؔ By: رشِید حسرتؔ, Quettaتُمہاری یاد کی مہکار سی ہے یادگاروں میں
کہِیں جا کر بسے ہو تُم گگن کے چاند تاروں میں
خزائیں بھی بہاروں سی تُمہارے دم قدم سے تِھیں
خزاں سی رقص کرتی ہے تُمہارے بِن بہاروں میں
ہمارے دیس میں افلاس کا طُوفان آیا ہے
کھڑے ہیں لوگ آٹے کے لیے دیکھو قطاروں میں
گُزاری زندگی اپنی نوالہ ڈُھونڈتے یارو
تمنّا تھی کہ جا بیٹھیں گے پھر بچپن کے یاروں میں
سُنا ہے تُم محبّت کی نظر کرنے پہ مائل ہو
ہمارا نام بھی شامل رکھو عرضی گزاروں میں
چراغِ شب کے بُجھتے ہی بدل لیتے ہیں خیمہ ہی
بہُت سے لوگ ایسے بھی تو ہوں گے غمگُساروں میں
کناروں پر پہنچ کر دل کی ناؤ ڈُوب جاتی ہے
یقینأ ہے کوئی آسیب سا دریا کے دھاروں میں
اُسے آسائشیں جِتنی بھی مُمکن تِھیں مُہیّا کِیں
گِھسِٹتے ہم نے کاٹی زِندگانی ریگزاروں میں
تُمہارے دِلنشیں ہونٹوں پہ بجتی ہے ہنسی ایسے
کہ جیسے جلترنگیں اُٹھ رہی ہوں آبشاروں میں
ہمی تو تھے کہ جِس نے گُلستاں کی آبیاری کی
ہمارا نام ہی شامِل نہِیں ہے آبیاروں میں
رشِیدؔ اپنی حقِیقت جان لو، دولت اپھارا ہے
اکڑ ایسی بھی کیا، پُھولے ہوا جیسے غُباروں میں
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






