فسانہ بیتے لمحوں کا

Poet: UA By: UA, Lahore

فسانہ بیتے لمحوں کا ہمیشہ یاد کرتے ہیں
کبھی اپنی کبھی ان کی زبانی یاد کرتے ہیں

ذرا فرست ملی ہے آؤ تم کو بھی یہ بتلا دیں
کہ تنہائی کی وحشت کیسے ہم برباد کرتے ہیں

یہ دل جب بھی تڑپتا ہے اسی کا نام لیتا ہے
اسی کو سوچتے رہنا کہ جس کو یاد کرتے ہیں

اکیلے بیٹھ کر پہروں انہی کو سوچتے رہنا
تنہائی کی وحشت اسی طرح برباد کرتے ہیں

میرے دل کو خبر میری محبت کو یقیں ہے کہ
میری طرح سے وہ بھی مجھے یاد کرتے ہیں

میری یادوں سے اکثر ہی شام و سحر میں
بزم احساس وہ اطراف میں آباد کرتے ہیں

انداز بیاں، حسن سخن، حسن ادا بھی
کچھ خاص ہے ان میں جو انہیں یاد کرتے ہیں

دل ناشاد کو عظمٰی ہم ایسے شاد کرتے ہیں
کسی کا نام لیتے ہیں کسی کو یاد کرتے ہیں

Rate it:
Views: 561
13 Dec, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL