فسون زیست
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGمیں رہا
زندگی کے سفر میں
تنہا مسافر
کئی راہگزاریں گزر گئیں
کئی نو بہاریں گزر گئیں
کئی ہم سفر تھے بچھڑ گئے
میرے دل کے تار اجڑ گئے
یہ خزاں رسیدہ ہے زندگی
بہت آبدید ہ ہے زندگی
کئی کروٹیں بدلوں مگر
کسی پہلو ملے نہ سکوں مگر
ہے بہار میں بھی خزاں کا رنگ
لب آب جو بیاباں کا رنگ
میں جو آ گیا یہاں لوٹ کر
نہ سمجھو کہ اب زندہ ہوں میں
ان دیکھی وادیوں کی طرف
پر تولتا پرندہ ہوں میں
میری منزلیں ہیں جانے کہاں
نجانے کہاں بھٹکوں گا اب
جو ملا کہیں کوئی ہم سفر
سر انکار میں جھٹکوں گا اب
کہ مجھے راس آیا نہ یہ جہاں
میں بھٹکا نہیں ہوں کہاں کہاں
ہیں اداس دل کی یہ دھڑکنیں
کہاں! کسے کہوں؟ ہیں جو الجھنیں
کیوں کہ میں رہا
زندگی کے سفر میں
تنہا مسافر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







