فُرصَت مِلے بھی تو، اب بات نہیں کرنی،
Poet: Waqas Khalid shamas By: Waqas khalid shamas, Rawalpindiفُرصَت مِلے بھی تو، اب بات نہیں کرنی،
یَک طَرَفہ مُحَبّت کی، اب خَیرات نہیں کرنی۔
تُم چاہو تو، اب یہ اَذِیَّت خَتْم ہی سَمَجھو،
تیرے اِنتِظار میں، اب کوئی رات نہیں کرنی۔
سارے جَھگڑے ہی، یہ میری وَجہ سے تھے،
یہ رَسمِ چاہت بھی، تیرے ساتھ نہیں کرنی۔
اب کی بار تَوبَہ ، پھر کبھی بُھول کر بھی،
دِل لگانے کی، کوئی بھی وَاردات نہیں کرنی۔
چاند تاروں کو توڑنے کی باتیں کیا کرتا تھا،
خوابوں میں بھی خَراب، اب کائِنات نہیں کرنی۔
یَقیناً میں مِٹا ہی دوں گا، سب دِل و دِماغ سے،
زِندگی میں مَزید پیدا، کوئی مُشکِلات نہیں کرنی۔
نہ کوئی شِکوہ رہے گا، نہ کوئی سوال باقی،
مَحفِلوں میں تیرے نام کی سَماعت نہیں کرنی۔
میں نے بَخش دِیا، تُو بھی بَخش دے سَب،
قِیامت میں بھی، تُجھ سے مُلاقات نہیں کرنی۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






